بھارت میں امتحانی پرچوں کے افشا کے خلاف ہفتوں سے جاری احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے۔ ملک بھر میں طلباء اور نوجوانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے اور تعلیمی نظام میں شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پرچوں کا بار بار افشا ہونا تعلیمی نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے اور اس سے لاکھوں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ ان کی جدوجہد صرف موجودہ پرچہ لیکس کے ذمہ داروں کو سزا دلوانے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد پورے تعلیمی اور امتحانی نظام کی اصلاح کرنا ہے۔ ایک مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ہماری لڑائی نظام کی اصلاح کے لیے ہے تاکہ آئندہ کسی بھی طالب علم کو اس طرح کی ناانصافی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔” ان کا مطالبہ ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو کڑی سزا دی جائے۔
یہ احتجاجی تحریک مختلف ریاستوں میں پھیل چکی ہے اور اس میں طلباء کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے ارکان بھی شامل ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ مسئلہ صرف چند پرچوں کے لیک ہونے کا نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل اور ملک کے تعلیمی معیار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔



