اسلام آباد – سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کا اطلاق اخبارات اور ٹی وی چینلز کی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نہیں کیا جا سکتا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کے مواد سے متعلق معاملات کو متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے ذریعے ہی نمٹایا جانا چاہیے۔
کمیٹی نے اپنے اجلاس میں میڈیا کے تحفظات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ ہدایات جاری کیں۔ یہ فیصلہ میڈیا اداروں کی جانب سے پیکا قانون کے ممکنہ غلط استعمال اور اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اثرات کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا مؤقف تھا کہ میڈیا کے مواد کی نگرانی اور اس سے متعلق شکایات کو پریس کونسل آف پاکستان، پیمرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے دائرہ اختیار میں رہ کر حل کیا جانا چاہیے۔
سینیٹ کمیٹی کا یہ اقدام میڈیا کی آزادی اور اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو پیکا جیسے قوانین کے غلط استعمال سے بچانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس فیصلے سے صحافتی اداروں کو اپنی آن لائن موجودگی کے حوالے سے درپیش خدشات میں کمی آنے کی توقع ہے اور یہ میڈیا کے ریگولیٹری فریم ورک کو مزید واضح کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔




