سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 80 سے زائد ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ٹیرف ان ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر لاگو ہوں گے جو جبری مشقت کے ذریعے تیار کی گئی ہیں۔ ان نئے محصولات کی شرح تقریباً 10 فیصد ہوگی اور یہ ایک سابقہ 10 فیصد ٹیرف کی میعاد ختم ہونے کے فوراً بعد نافذ کیے گئے ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عالمی تجارت میں جبری مشقت کے استعمال کے خلاف ایک سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایسے طریقوں سے تیار کردہ اشیاء نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ منصفانہ تجارتی مسابقت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ ان ٹیرف کا اطلاق دنیا بھر کے 80 سے زائد ممالک پر ہوگا، جس سے عالمی سپلائی چینز اور تجارتی تعلقات پر ممکنہ طور پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ نئے ٹیرف ایک ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب عالمی سطح پر تجارتی پالیسیوں اور انسانی حقوق کے احترام پر بحث جاری ہے۔ سابقہ 10 فیصد ٹیرف کی میعاد ختم ہونے کے بعد، انتظامیہ نے فوری طور پر ان نئے محصولات کو متعارف کرایا تاکہ جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد کو روکا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے متاثرہ ممالک پر معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور انہیں اپنی پیداواری عمل میں شفافیت لانے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔



