یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ایک نئے سیاسی بحران کا سامنا ہے، جو ان کی جانب سے ایک اہم وزیر، میخائیلو فیڈوروف، کی برطرفی کے فیصلے کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جس سے صدر کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ میخائیلو فیڈوروف کی برطرفی نے صدر زیلنسکی کو سیاسی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین روس کے ساتھ جاری جنگ میں مصروف ہے اور اسے اندرونی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ احتجاجی مظاہرین اس حکومتی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے حکومت کی غلط پالیسیوں کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
صدر زیلنسکی اب اس بحران کو حل کرنے اور اس کے سیاسی و عوامی ردعمل کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ انہیں نہ صرف اندرونی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کے فیصلوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں زیلنسکی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عوامی اعتماد کو بحال کریں اور اپنی حکومت کی پوزیشن کو مضبوط بنائیں۔


