بھارت میں امتحانی نظام میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے خلاف جاری شدید عوامی احتجاج کے بعد مرکزی وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا ہے۔ یہ استعفیٰ ملک بھر میں طلبہ اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا نتیجہ ہے، جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
تفصیلات کے مطابق، مظاہرین کا مؤقف تھا کہ حالیہ امتحانات میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیاں اور پرچہ آؤٹ ہونے کے واقعات لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو تاریک کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امتحانی نظام میں شفافیت لائی جائے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے رہنماؤں نے ان احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی اور حکومت پر شدید تنقید کی۔
وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات لانے اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں نے اس استعفے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صرف وزیر کی تبدیلی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ پورے نظام کی اصلاح ضروری ہے۔ طلبہ تنظیموں نے بھی اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جب تک کہ ان کے مطالبات مکمل طور پر تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ اس صورتحال نے ملک کے تعلیمی مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


