نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی ایئر فورس ون طیاروں کی جلد فراہمی پر زور دینے سے نہ صرف منصوبے کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا بلکہ طیاروں کی کچھ اہم حفاظتی خصوصیات پر بھی سمجھوتہ کیا گیا۔ یہ طیارے امریکی صدر کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں دنیا کے محفوظ ترین طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں صدر کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے ان طیاروں کی تیاری اور فراہمی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ٹھیکیداروں پر شدید دباؤ ڈالا۔ اس جلد بازی کے نتیجے میں ٹھیکیداروں کو کم وقت میں کام مکمل کرنے کے لیے اضافی وسائل استعمال کرنے پڑے اور ہنگامی بنیادوں پر سپلائی چین کے مسائل کو حل کرنا پڑا۔ اس غیر معمولی دباؤ اور جلد بازی نے منصوبے کی ابتدائی لاگت کو کئی گنا بڑھا دیا، جس سے امریکی ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ پڑا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جلد بازی کے اس عمل میں طیاروں کی کچھ اہم حفاظتی خصوصیات کو یا تو نظر انداز کر دیا گیا یا ان پر سمجھوتہ کیا گیا، جو کہ صدر کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت کے بڑے دفاعی اور صدارتی منصوبوں میں شفافیت، لاگت کی نگرانی اور معیار پر بحث جاری ہے۔

