غزہ کے فلسطینی جنگی حالات میں اپنی تیسری عید منانے جا رہے ہیں، جہاں خوراک اور خوشی دونوں کی شدید قلت ہے۔ یہ عید الاضحیٰ ایسے وقت میں آ رہی ہے جب غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی حملوں نے زندگی کے ہر شعبے کو مفلوج کر دیا ہے، اور لاکھوں افراد بے گھر اور بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
عید الاضحیٰ، جو قربانی اور ایثار کا تہوار ہے، اس سال غزہ کے باسیوں کے لیے ایک مختلف صورتحال لے کر آئی ہے۔ جنگ کی تباہ کاریوں اور معاشی بدحالی کے باعث، قربانی کے جانوروں کی دستیابی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے، اور جو دستیاب ہیں وہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ مویشیوں کی قلت اور ان کی آسمان چھوتی قیمتوں نے بہت سے خاندانوں کو اس اہم مذہبی فریضے کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔
اس تمام تر مشکل صورتحال کے باوجود، غزہ کے فلسطینیوں میں امید کا دامن ابھی بھی تھاما ہوا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو خوشیاں دینے اور عید کی روایات کو کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ان کی غیر متزلزل ہمت اور استقامت کا مظہر ہے کہ وہ ہر مشکل کے باوجود زندگی کی رمق کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس عید پر، غزہ کے باسیوں کی دعائیں امن اور بہتر مستقبل کے لیے ہوں گی، جب کہ دنیا ان کی حالت زار پر غور کرے۔



