اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ شہر پر اس کے حالیہ حملوں میں حماس کے فوجی ونگ کے نئے سربراہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب حماس کے ساتھ جنگ بندی پہلے سے ہی نافذ تھی۔
ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام نے ہلاک ہونے والے حماس کے رہنما کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ تنظیم کے فوجی ڈھانچے میں ایک اہم عہدہ رکھتے تھے۔
جنگ بندی کے باوجود ہونے والے ان حملوں نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے اور امن کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حماس کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن توقع ہے کہ اس پیش رفت کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

