تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایران نے اسرائیل پر شدید الزامات عائد کیے ہیں کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو آئندہ انتخابات سے قبل مزید جنگ چاہتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو خطے میں کشیدگی کو بڑھا کر انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے سے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور علاقائی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
عراقچی کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ رویہ خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید ہوا دے رہا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ایران نے بارہا اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنے سیاسی اور سٹریٹیجک مقاصد حاصل کر سکے۔ یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن میں بھی لڑائی میں شدت دیکھی جا رہی ہے، جس سے پورے مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں مشرق وسطیٰ کو ایک بڑے تنازعے کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان لفظی جنگ کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ حالات میں یہ بیانات خاصی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان سے علاقائی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

