ایران نے ہفتے کے روز یوکرین پر بحیرہ کیسپین میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ملاح ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس واقعے کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا۔
یہ الزام یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کیف نے بحیرہ کیسپین میں ان جہازوں کے خلاف طویل فاصلے تک حملے کیے ہیں جو ایران سے متعلق فوجی سامان کی نقل و حمل میں ملوث تھے۔ یہ واقعہ روس-یوکرین جنگ کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی جہتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق بتایا کہ ہفتے کی صبح ہونے والے حملے سے جہاز میں دھماکہ ہوا، جس سے ایک ملاح ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ اسلامی جمہوریہ نے زور دیا کہ اس نے روس اور یوکرین کے درمیان تنازع میں کبھی مداخلت نہیں کی۔
زیلنسکی نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ مسلح افواج نے بحیرہ کیسپین میں طویل فاصلے تک حملوں سے ‘بہت مضبوط نتائج’ حاصل کیے ہیں، جن میں ایران سے متعلق فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال ہونے والے جہازوں کے ساتھ ساتھ ایک جنگی جہاز بھی شامل ہے۔ یوکرین کی انٹیلی جنس سروسز (ایس بی یو) نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ بین الاقوامی پابندیوں کے تحت آنے والے کارگو جہازوں پر ڈرون حملے کیے گئے تھے جو ایران اور روس کے درمیان فوجی سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز تہران میں یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کرکے اس ‘دشمنانہ اور مجرمانہ کارروائی’ پر احتجاج کیا۔



