پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ بوجھ کا سامنا ہے۔ یہ انکشاف ملک میں صحت عامہ کے لیے ایک سنگین چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
پی ایم اے کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 10 ملین افراد دائمی ہیپاٹائٹس سی وائرس (HCV) کے انفیکشن کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملک میں اس بیماری کے وسیع پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں صحت کے نظام پر پڑنے والے دباؤ کو واضح کرتے ہیں، جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی ایک خاموش قاتل ہے جو جگر کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جگر کے کینسر یا جگر کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔ پی ایم اے نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، جن میں آگاہی مہمات، سکریننگ پروگرامز اور علاج کی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔




