آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں گہما گہمی بڑھ گئی ہے۔ مختلف پولنگ اسٹیشنز سے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ابتدائی رجحانات سامنے آ رہے ہیں، جو آزاد کشمیر کے آئندہ سیاسی منظرنامے کی جھلک پیش کر رہے ہیں۔
اب تک موصولہ اطلاعات کے مطابق، کئی حلقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے، تاہم بعض حلقوں میں ایک جماعت کو نمایاں برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں ہر جماعت اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش میں ہے۔ یہ نتائج ابھی غیر حتمی ہیں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کے ان انتخابات کو خطے کی سیاسی صورتحال کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد نے جمہوری عمل میں حصہ لیا اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ حتمی نتائج کے اعلان کے بعد ہی آزاد کشمیر کی نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی، جس پر نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر بھی سب کی نظریں مرکوز ہیں۔


