یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملوں میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین کو فضائی دفاعی امداد فراہم کرنے کے وعدے سے پیچھے ہٹنے کے چند گھنٹوں بعد ہوئے ہیں۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ آیا یوکرین کو مستقبل میں مغربی ممالک سے دفاعی مدد مل پائے گی یا نہیں۔
یہ دو دنوں میں یوکرین کے دارالحکومت پر ہونے والا دوسرا مہلک حملہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو اپنے حملوں میں شدت لا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روس یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کے لیے درکار انٹرسیپٹرز کی کم ہوتی ہوئی سپلائی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوکرین کے حکام نے بارہا مغربی اتحادیوں سے جدید فضائی دفاعی نظام اور گولہ بارود کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ روسی حملوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ اس سے یوکرین کی دفاعی صلاحیت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ روس کی جانب سے حملوں میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یوکرین کو مغربی اتحادیوں کی جانب سے فوجی امداد کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا ہے، جس سے اس کی فضائی دفاعی صلاحیتیں شدید دباؤ میں ہیں۔ یہ صورتحال یوکرین کے لیے میدان جنگ میں مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

