اسلام آباد – پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے یوم تکبیر کے موقع پر ایک بار پھر جوہری دفاعی صلاحیت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ دن 1998 میں چاغی کے مقام پر کیے گئے تاریخی جوہری تجربات کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے ملک کے سیکیورٹی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔ 28 مئی 1998 کو کیے گئے ان تجربات نے پاکستان کو باضابطہ طور پر ایک جوہری طاقت بنا دیا اور خطے میں اسٹریٹجک توازن کو بحال کیا۔
اس اہم موقع پر، سول اور عسکری قیادت نے ملک کی جوہری دفاعی صلاحیت کے مضبوط اور ناقابل تسخیر موقف کا اعادہ کیا۔ یہ صلاحیت پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضامن ہے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف ایک موثر روک تھام کا کردار ادا کرتی ہے۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے، اور یہ کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یوم تکبیر کا یہ دن پاکستان کے لیے ایک اہم یاد دہانی ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ قیادت نے قوم کو یقین دلایا کہ ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور پاکستان کی جوہری صلاحیتیں اس کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ فعال رہیں گی۔ اس عزم کا اعادہ عالمی برادری کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گا۔






