کویت سٹی/واشنگٹن – امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں خلیجی خطے کے مختلف حصوں میں تازہ فوجی حملوں، جوابی کارروائیوں اور فضائی دفاعی سرگرمیوں میں اضافے کے بعد تیزی سے شدت آ گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں اور خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
امریکی افواج نے ایک ایرانی فوجی ٹھکانے کو نشانہ بناتے ہوئے نئے حملے کیے، جسے واشنگٹن آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ سمجھتا تھا۔ یہ آپریشن آبنائے ہرمز کی حساسیت کے پیش نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس نے اپنے مفادات اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔
ان تازہ حملوں اور جوابی کارروائیوں سے خطے میں عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ محاذ آرائی نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی سطح پر بھی سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے، جس میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور علاقائی تنازعات میں شدت شامل ہے۔





