کراچی: پولیس نے جمعرات کو میر رضا علی قتل کیس میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، جہاں گلستانِ جوہر میں جائے وقوعہ سے گولی کا ایک استعمال شدہ خول برآمد کر لیا گیا ہے۔ آئی بی اے کے گریجویٹ اور ‘ویفلکس’ نامی ریسٹورنٹ کے مالک 25 سالہ میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے، اور ان کی لاش ایک دن بعد گلستانِ جوہر میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے گولی لگنے کے زخم کے ساتھ ملی تھی۔
تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے ڈان کو بتایا کہ پولیس نے ایک انتہائی منظم تلاشی آپریشن کے دوران جائے وقوعہ سے گولی کا خول برآمد کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جائے وقوعہ کا مکمل جائزہ لینے کے لیے چار اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) اور 40 کانسٹیبلز پر مشتمل ایک خصوصی تلاشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ میٹل ڈیٹیکٹرز اور دیگر آلات سے لیس اس ٹیم نے علاقے کو چار حصوں میں تقسیم کیا، اور ہر یونٹ کو جائے وقوعہ کی مکمل کوریج کو یقینی بنانے کے لیے ایک الگ تلاشی کا نمونہ اور سیکٹر تفویض کیا گیا۔
ڈاکٹر سومرو نے اسے ایک “بڑی پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “انتہائی محنت سے کی گئی تلاشی کے نتیجے میں مقتول کی پوزیشن کے لحاظ سے گولی کے ممکنہ راستے کے مطابق ایک مقام سے گولی کا خول برآمد ہوا ہے۔” تفتیش کاروں نے اس برآمدگی کو ایک اہم طبعی ثبوت قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ یہ فرانزک جانچ، بیلسٹک تجزیہ اور واقعے کے گرد و پیش کے واقعات کی ترتیب کو دوبارہ ترتیب دینے میں “کلیدی کردار” ادا کرے گا۔




