کراچی میں نوجوان میر رضا کی پراسرار موت کا معمہ حل کرنے کے لیے ان کی قبر کشائی کل (بروز جمعرات) کی جائے گی۔ عدالتی حکم پر ہونے والی اس کارروائی کا مقصد میر رضا کی موت کی اصل وجہ معلوم کرنا ہے، جس پر ان کے اہل خانہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، قبر کشائی کے لیے تشکیل دیے گئے تحقیقاتی بورڈ کی تشکیل پر ایک بار پھر تنازع کھڑا ہو گیا ہے، اور نیا بورڈ دوبارہ پچھلے بورڈ سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔
میر رضا کی موت چند ہفتے قبل کراچی میں ہوئی تھی، جسے ابتدائی طور پر طبعی موت قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، ان کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ میر رضا کو قتل کیا گیا ہے اور انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اہل خانہ کی درخواست پر عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کیا تھا تاکہ فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا سکیں اور موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، قبر کشائی کے عمل کی نگرانی اور فرانزک معائنے کے لیے ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس بورڈ کو تبدیل کر کے دوبارہ وہی پرانا بورڈ بحال کر دیا گیا ہے جو پہلے اس کیس سے منسلک تھا۔ اس تبدیلی پر میر رضا کے اہل خانہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ کی بار بار تبدیلی تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
قبر کشائی کے موقع پر پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر مجسٹریٹ، پولیس حکام، اور میر رضا کے اہل خانہ کے نمائندے موجود ہوں گے۔ اہل خانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ قبر کشائی کے بعد ملنے والے شواہد سے میر رضا کی موت کا معمہ حل ہو سکے گا اور انہیں انصاف مل سکے گا۔




