آئیوری کوسٹ کے ایک آبائی گاؤں میں 110 سال کی طویل جدائی کے بعد ایک تاریخی ‘گویا ڈھول’ کی واپسی نے مقامی کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ ڈھول، جو صدی سے زائد عرصے سے اپنے وطن سے دور تھا، اب بالآخر اپنی اصل جگہ پر لوٹ آیا ہے، جہاں اسے ثقافتی ورثے اور شناخت کی ایک اہم علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
یہ ‘گویا ڈھول’ (Talking Drum) محض ایک ساز نہیں بلکہ آئیوری کوسٹ کے لوگوں کے لیے ایک گہرا ثقافتی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ روایتی طور پر، ایسے ڈھول پیغامات پہنچانے، تقریبات کا اعلان کرنے اور کہانیوں کو نسل در نسل منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اس خاص ڈھول کو نوآبادیاتی دور میں ملک سے باہر لے جایا گیا تھا اور یہ طویل عرصے تک ایک غیر ملکی مجموعے کا حصہ رہا۔ اس کی واپسی نوآبادیاتی دور میں لوٹے گئے فن پاروں کی واپسی کی عالمی تحریک کا ایک اہم حصہ ہے۔
ڈھول کی واپسی پر گاؤں میں ایک پرجوش استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں مقامی عمائدین، کمیونٹی کے افراد اور ثقافتی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے، مقامی رہنماؤں نے اس ڈھول کو اپنی تاریخ اور شناخت کا ایک لازمی حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی واپسی سے ان کی ثقافتی جڑیں مزید مضبوط ہوں گی۔ یہ واقعہ نہ صرف آئیوری کوسٹ کے لیے بلکہ دنیا بھر میں ان تمام کمیونٹیز کے لیے امید کی کرن ہے جو اپنے لوٹے گئے ورثے کی واپسی کے منتظر ہیں۔ یہ ثقافتی انصاف اور احترام کی ایک نئی مثال قائم کرتا ہے۔



