سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے دوران 15 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ اطلاع سرکاری میڈیا نے اتوار کو دی۔ سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ آپریشنز آپریشن رد الفساد 3 کے تحت مستونگ، بولان، واشک، آواران، سبی، خضدار، ہرنائی اور نوشکی میں کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
پاکستان ٹیلی ویژن نے مزید کہا کہ ‘ان آپریشنز نے خوارج کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا۔’ واضح رہے کہ ‘خوارج’ کی اصطلاح ریاست دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے یہ تازہ ترین آپریشنز ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب صوبہ مسلسل سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی 31 جولائی کو جاری کردہ ماہانہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ ملک بھر میں بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد میں 241 فیصد اضافہ ہوا، جو جون میں 109 سے بڑھ کر جولائی میں 372 ہو گئی۔ بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں جون میں 6 سے بڑھ کر جولائی میں 62 ہو گئیں، جو کہ 933 فیصد کا اضافہ ہے۔ دہشت گردوں کی ہلاکتیں 75 سے بڑھ کر 238 ہو گئیں، جبکہ عام شہریوں کی ہلاکتوں میں 93 فیصد اضافہ ہوا، جو 28 سے 54 تک پہنچ گئیں۔ صوبے میں امن کمیٹیوں کے اٹھارہ ارکان بھی ہلاک ہوئے۔
گزشتہ ماہ، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر بلوچستان میں آپریشن شعبان کا آغاز کیا تھا۔




