پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں افغان صحافیوں کی ملک بدری کے عمل کو روکنے کا حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان افغان صحافیوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے جو پاکستان میں پناہ گزین ہیں اور انہیں ملک بدری کا سامنا تھا۔ عدالت عالیہ نے حکومتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان صحافیوں کو ملک بدر نہ کریں۔
پاکستان میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں، خصوصاً افغان شہریوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تناظر میں یہ حکم امتناعی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ملک بھر میں ہزاروں افغان شہریوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے، جس میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اپنی جانوں کے خوف سے پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔ ان صحافیوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں افغانستان میں شدید خطرات لاحق ہیں اور انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر مزید سماعت کے لیے تاریخ مقرر کی ہے۔ اس فیصلے کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی برادری کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے افغان صحافیوں اور پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ حکم امتناعی نہ صرف ان مخصوص صحافیوں کو فوری تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ پاکستان میں پناہ گزینوں کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم نظیر بھی قائم کرتا ہے۔





