کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کے پراسرار قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، اس ہائی پروفائل کیس میں فرانزک رپورٹس نے نئے حقائق کو بے نقاب کیا ہے جو تفتیش کو ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔ میر رضا کی ہلاکت نے شہر میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی، اور اب تک یہ کیس ایک معمہ بنا ہوا تھا۔
فرانزک ماہرین کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ میر رضا کے پھیپھڑے شدید طور پر تیزاب سے متاثر ہوئے تھے، جس سے ان کی موت کی وجہ میں کیمیائی مادے کے استعمال کا شبہ تقویت پا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد میں کسی دوسرے شخص کے پسینے کے نشانات بھی پائے گئے ہیں جنہیں ڈی این اے تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ یہ دریافت کیس میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ کسی تیسرے فریق کی موجودگی اور ممکنہ ملوث ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان نئے شواہد کی روشنی میں تفتیش کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں تمام ممکنہ پہلوؤں پر غور کر رہی ہیں اور ملوث افراد تک پہنچنے کے لیے جدید فرانزک تکنیکوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیس کی حساسیت کے پیش نظر، حکام نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے، تاہم انہوں نے یقین دلایا ہے کہ میر رضا کے قاتلوں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ پیش رفت کیس کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔




