سابق امریکی مشیر اور معروف سرمایہ کار اسکاٹ بیسنٹ نے تمام عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی خلل ڈالنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کرے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی پر تشویش پائی جاتی ہے۔ بیسنٹ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسکاٹ بیسنٹ، جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران اہم مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ “تمام ممالک کو آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی ایرانی کوششوں کو مسترد کردینا چاہیے۔” ان کا یہ موقف امریکہ کی دیرینہ پالیسی سے ہم آہنگ ہے جو بین الاقوامی پانیوں میں جہاز رانی کی آزادی اور خطے میں استحکام کو برقرار رکھنے پر زور دیتی ہے۔ امریکہ ماضی میں بھی آبنائے ہرمز میں ایرانی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے، جس میں بحری جہازوں کو ہراساں کرنے اور تیل کے ٹینکروں کو ضبط کرنے کے واقعات شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے، دنیا کے تیل کی ترسیل کا تقریباً ایک تہائی حصہ سنبھالتی ہے۔ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کا باعث بن سکتی ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ کا یہ مطالبہ عالمی برادری کو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں اور ایران پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔






