یورپی یونین نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں اور ان سے منسلک تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ یورپی یونین کونسل کے اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانا ہے۔
ان پابندیوں میں سفر پر پابندی اور اثاثوں کو منجمد کرنا شامل ہے، جو ان افراد اور اداروں پر لاگو ہوں گی جو مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یورپی یونین کے حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش کے اظہار کے طور پر کیا گیا ہے، جہاں آباد کاروں کا تشدد حالیہ مہینوں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ اس سے قبل امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا بھی اسی طرح کے اقدامات کر چکے ہیں۔
یورپی یونین طویل عرصے سے اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی رہی ہے اور انہیں دو ریاستی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد اسرائیل پر دباؤ ڈالنا بھی ہے کہ وہ آباد کاروں کے تشدد کو روکے اور فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں مغربی کنارے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری کی جانب سے امن کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔






