اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کو غزہ کی پٹی میں اپنے کنٹرول کو 70 فیصد تک وسعت دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ حکم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو خود بارہا اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ اسرائیلی افواج پہلے ہی غزہ کے طے شدہ علاقے سے کہیں زیادہ رقبے پر قابض ہیں۔
نیتن یاہو کے اس بیان اور نئے حکم سے غزہ میں اسرائیل کے طویل مدتی ارادوں اور جنگ کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ اسرائیلی افواج پہلے ہی ‘طے شدہ مقدار’ سے زیادہ علاقے پر قابض ہیں، بین الاقوامی معاہدوں یا ماضی کے سمجھوتوں کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتا ہے، اگرچہ اصل ‘طے شدہ مقدار’ کی تفصیلات واضح نہیں کی گئی ہیں۔ اس اقدام کو غزہ میں اسرائیلی تسلط کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
غزہ میں جاری جنگ کے دوران، جہاں ہزاروں فلسطینی ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، نیتن یاہو کا یہ حکم تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے مطالبات کے باوجود، اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اب اپنے کنٹریل کے دائرہ کار کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔



