میر رضا قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم کئی روز گزر جانے کے باعث پولیس کو جیو فینسنگ کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، واردات کے فوری بعد جیو فینسنگ سے ملزمان کی موجودگی اور ان کے موبائل فونز کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے ڈیٹا کی دستیابی اور اس کی درستگی متاثر ہوتی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جیو فینسنگ کی محدود افادیت کے پیش نظر، اب تفتیش کا دائرہ دیگر پہلوؤں تک وسیع کر دیا گیا ہے۔ فرانزک شواہد، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے فنگر پرنٹس اور دیگر نمونوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، قریبی علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور ان کی فرار کی سمت کا تعین کیا جا سکے۔ پولیس نے کئی مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ بھی کی ہے، تاہم ابھی تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
میر رضا کو چند روز قبل نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ مقتول کے لواحقین اور مقامی شہریوں کی جانب سے پولیس پر ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے شدید دباؤ ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں اور جلد ہی قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تفتیشی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں اور مختلف زاویوں سے کیس کی چھان بین جاری ہے۔




