پاکستان میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو ایک مقامی عدالت نے 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاسی مخالفین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس پر اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جوڑے نے اس سزا کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ‘ضمیر کے قیدی’ ہیں اور انہیں پاکستان کے عسکری حمایت یافتہ حکام کی جانب سے ایک مثال بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے خیالات اور سرگرمیوں کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے، نہ کہ کسی حقیقی جرم کے ارتکاب پر۔ یہ بیان ملک میں آزادی اظہار اور اختلاف رائے کی صورتحال پر سوالات اٹھاتا ہے۔
ایمان مزاری، جو سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ہیں، پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے ایک توانا آواز سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی گرفتاری اور اب سزا نے ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اختلاف رائے کو دبانے اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی کوشش ہے۔





