شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں سے قبل ایک بار پھر میزائل داغ کر خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ یہ اقدام پیانگ یانگ کے دیرینہ موقف کی عکاسی کرتا ہے، جو ان مشقوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دونوں اتحادی ممالک اپنی سالانہ فوجی مشقوں کی تیاری کر رہے تھے، جنہیں شمالی کوریا ہمیشہ سے اشتعال انگیز قرار دیتا آیا ہے۔
شمالی کوریا طویل عرصے سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کی شدید مذمت کرتا رہا ہے۔ پیانگ یانگ کا دعویٰ ہے کہ یہ مشقیں محض “حملے کی تیاری” ہیں اور ان کا مقصد شمالی کوریا پر حملہ کرنا ہے۔ اسی وجہ سے، ہر بار جب ایسی مشقوں کا اعلان ہوتا ہے، شمالی کوریا عموماً میزائل تجربات یا دیگر فوجی کارروائیوں کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کرتا ہے تاکہ اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کر سکے اور عالمی برادری کو اپنی ناراضگی کا پیغام دے سکے۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کا موقف ہے کہ ان کی مشترکہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد شمالی کوریا کی جارحیت کو روکنا اور خطے میں استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ تاہم، شمالی کوریا ان دلائل کو مسترد کرتا ہے اور انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ میزائل داغنے کا یہ تازہ واقعہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی بھی ہے اور اس سے جزیرہ نما کوریا میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے، جبکہ شمالی کوریا اپنے دفاع کے حق پر زور دیتا ہے۔






