ذرائع کے مطابق، ایران کے اعلیٰ کمانڈر اسماعیل قاآنی نے حال ہی میں عراق کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر اہم ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ خطے میں سلامتی اور استحکام کے حوالے سے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
عراقی حکومت طویل عرصے سے ملک میں موجود مختلف مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کو سرکاری تحویل میں لانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ریاست کی خودمختاری اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان ملاقاتوں میں اس منصوبے کی تفصیلات اور اس کے نفاذ کے ممکنہ طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عراقی حکام کا مقصد تمام غیر ریاستی مسلح عناصر کو قومی فوج اور سیکورٹی فورسز کے دائرہ کار میں لانا ہے۔
اسماعیل قاآنی، جو ایران کی قدس فورس کے سربراہ ہیں، کا عراق کا یہ دورہ خطے میں ایران کے گہرے اثر و رسوخ اور عراق کی اندرونی سلامتی کے معاملات میں اس کی دلچسپی کو نمایاں کرتا ہے۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی استحکام، عراق کی خودمختاری کو مضبوط بنانے اور مسلح گروہوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملیوں پر بھی بات چیت کی گئی۔






