ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے ایک مختلف طیارے میں سفر کیا۔ ان کی کابینہ کے ارکان کو ایک دھوکے کے طیارے پر چھوڑ دیا گیا، جو کہ ایک غیر معمولی حفاظتی اقدام تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی حکام کو ایران کی جانب سے کسی ممکنہ حملے یا جاسوسی کا خدشہ تھا۔
اس خفیہ حکمت عملی کا مقصد صدر کی حفاظت کو یقینی بنانا اور دشمن کو گمراہ کرنا تھا۔ ٹرمپ کی یہ خاموش روانگی ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی پروٹوکول کا حصہ تھی جس میں کابینہ کے ارکان کو جان بوجھ کر ایک ایسے طیارے پر رکھا گیا جو اصل طیارہ نہیں تھا۔ اس طرح کے اقدامات عام طور پر انتہائی حساس اور خطرناک صورتحال میں کیے جاتے ہیں، جو اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر سیکیورٹی پروٹوکولز اور اعلیٰ شخصیات کی حفاظت کے طریقوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی رہنماؤں کی حفاظت کے لیے کس حد تک پیچیدہ اور خفیہ تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، خاص طور پر جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی عروج پر ہو۔






