واشنگٹن: جولائی کے مہینے میں امریکہ میں سالانہ مہنگائی کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ 3.4 فیصد پر آ گئی ہے۔ یہ کمی خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں ٹھہراؤ اور کمی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، جس سے صارفین کو کچھ ریلیف ملا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان امریکی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے، کیونکہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے بعد مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، خوراک کی لاگت میں اضافے کی رفتار سست پڑ گئی ہے، جو کہ مہنگائی کو نیچے لانے میں ایک اہم عنصر ثابت ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایندھن کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس نے صارفین کے بجٹ پر دباؤ کو کم کیا ہے۔ تاہم، رہائش کے اخراجات اب بھی نسبتاً بلند ہیں، جس کی وجہ سے مجموعی مہنگائی کی شرح میں مکمل کمی کو روکا گیا ہے۔
مہنگائی کی شرح میں یہ کمی امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کے لیے بھی اہم ہے، جو مستقبل میں اپنی مالیاتی پالیسیوں کا تعین کرتے وقت ان اعداد و شمار کو مدنظر رکھے گا۔ صارفین کے لیے، خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں ٹھہراؤ روزمرہ کے اخراجات میں کچھ آسانی پیدا کر سکتا ہے، اگرچہ رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات اب بھی ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو یہ معیشت کی پائیدار بحالی کے لیے سازگار ثابت ہو سکتا ہے۔




