کراچی: جشن آزادی کے موقع پر شہر قائد میں ہوائی فائرنگ کے واقعات نے خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔ ان واقعات میں کم از کم 94 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ میں ملوث 30 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، زخمی ہونے والے افراد کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ یہ واقعات شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً گنجان آباد علاقوں میں پیش آئے جہاں جشن آزادی منانے کے لیے لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ کی روک تھام کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں، تاہم اس کے باوجود یہ افسوسناک واقعات رونما ہوئے۔
ایس ایس پی ساؤتھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار کیے گئے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے اور ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے گریز کریں جو دوسروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالیں۔ ہوائی فائرنگ ایک سنگین جرم ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔



