گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے حساس علاقے میں ایک بین الاقوامی تیل بردار ٹینکر پر ڈرون حملے کی اطلاع ملی ہے، جس کے نتیجے میں جہاز کو معمولی نقصان پہنچا تاہم عملہ مکمل طور پر محفوظ رہا۔ یہ واقعہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک میں پیش آیا ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔
بحری حکام کے مطابق، حملے میں ٹینکر کے اوپری حصے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی جسے جہاز کے عملے نے فوری طور پر بجھا دیا۔ عملے کے تمام افراد خیریت سے ہیں اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ابھی تک کسی بھی فریق نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی اس علاقے میں تیل بردار جہازوں پر حملے ہوتے رہے ہیں، جن کی ذمہ داری مختلف علاقائی فریقوں پر عائد کی جاتی رہی ہے۔
اس حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور عالمی طاقتوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات عالمی تیل کی سپلائی اور بحری جہاز رانی کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر، اس طرح کے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔



