اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے پیٹرولیم ڈیلرز کے منافع کے مارجن میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی ایک سمری پر غور کے بعد کیا گیا، جس میں ڈیلرز کے بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات اور انہیں درپیش مالی چیلنجز کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اس اقدام سے ملک بھر کے پیٹرولیم ڈیلرز کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو طویل عرصے سے اپنے مارجن میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
کمیٹی کے اجلاس میں ڈیلرز کے مارجن پر نظر ثانی کی تجویز پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اراکین نے موجودہ اقتصادی صورتحال، پیٹرولیم سیکٹر کی اہمیت اور سپلائی چین کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ڈیلرز کے کردار کا جائزہ لیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مہنگائی کے باعث ڈیلرز کے لیے کاروبار چلانا مشکل ہو رہا تھا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، اس اضافے کا مقصد پیٹرولیم ڈیلرز کو ان کے بڑھتے ہوئے اخراجات، بشمول بجلی کے بل، ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر انتظامی لاگت کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے اور ڈیلرز کو صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے قابل بنانے کے لیے ضروری سمجھا گیا۔ تاہم، اس فیصلے کے نتیجے میں صارفین پر پڑنے والے ممکنہ اثرات اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ تبدیلیوں پر بھی نظر رکھی جائے گی۔





