اسلام آباد: پاکستان کے نگران وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ ریمارکس ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران دیے۔ نگران وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا شکار رہا ہے، جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر دہشت گرد گروہ ملوث ہیں۔ نگران وزیر داخلہ نے ناروے کے وزیر خارجہ کو پاکستان کی ان تشویش سے آگاہ کیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور انہیں عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیے اور افغانستان سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
اس ملاقات کا مقصد ناروے کو پاکستان کے سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنا تھا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام پورے خطے کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکام اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ نگران وزیر داخلہ نے امید ظاہر کی کہ ناروے اور دیگر یورپی ممالک اس معاملے میں پاکستان کی حمایت کریں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کامیاب ہو سکیں۔





