یورپی ممالک، خاص طور پر فرانس، جرمنی اور برطانیہ، روس اور یوکرین کے درمیان مستقبل کے ممکنہ امن مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ کوششیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکان اور اس کے یوکرین جنگ پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر کی جا رہی ہیں۔ تاہم، روس کی جانب سے ان مذاکرات میں اب تک کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی گئی ہے۔
فرانسیسی، جرمن اور برطانوی سفارت کار اس وقت ایک ایسے فارمیٹ پر کام کر رہے ہیں جو جنگ بندی کی صورت میں یا کسی بھی وقت جب فریقین مذاکرات پر آمادہ ہوں، استعمال کیا جا سکے۔ یورپی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچتے ہیں، تو وہ یوکرین کے لیے امریکی حمایت کو کم کر سکتے ہیں یا روس کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کر سکتے ہیں جو یورپ کے مفادات کے خلاف ہو۔ اسی لیے یورپ چاہتا ہے کہ وہ خود ان مذاکرات میں ایک اہم اور فعال کردار ادا کرے تاکہ اپنے علاقائی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنا سکے۔
اگرچہ روس نے فی الحال مذاکرات میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے اور اس کا اصرار ہے کہ یوکرین کو اپنے نئے علاقوں کو تسلیم کرنا ہوگا، یورپی ممالک کا خیال ہے کہ کسی نہ کسی موڑ پر بات چیت ناگزیر ہو جائے گی۔ ان سفارتی کوششوں کا مقصد مستقبل کے لیے ایک راستہ ہموار کرنا ہے، چاہے موجودہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ یورپ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جب بھی مذاکرات کا وقت آئے، ایک منظم اور موثر فریم ورک موجود ہو جس میں یورپی آواز کو اہمیت دی جائے۔





