جون میں بیلجیئم اور اس کے ہمسایہ ممالک میں آنے والی شدید گرمی کی لہر نے تیاری کے مہلک فقدان کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عموماً سرد تصور کیے جانے والے اس ملک میں گرمی کی شدت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات نے سب کو چونکا دیا ہے، اور یہ صورتحال یورپ کے دیگر حصوں کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے۔
یہ صورتحال یورپ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، خاص طور پر جب براعظم کو ایک اور شدید گرمی کی لہر کا سامنا ہے۔ بیلجیئم میں پیش آنے والے واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یورپ کے وہ علاقے جو روایتی طور پر شدید گرمی کے عادی نہیں ہیں، وہاں بنیادی ڈھانچے، عوامی آگاہی اور ہنگامی ردعمل میں کتنی کمی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیر متوقع موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ میں گرمی کی لہروں کی شدت اور تواتر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لہٰذا، بیلجیئم کا تجربہ باقی یورپی ممالک کے لیے ایک اہم انتباہ ہے کہ وہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کا از سر نو جائزہ لیں اور ضروری اقدامات کریں۔ اس میں کولنگ سینٹرز کا قیام، عوامی صحت کی مہمات اور شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا شامل ہے۔



