کراچی: سیشن عدالت نے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کیس میں ان کے مبینہ کاروباری شراکت دار محمد احمد بھارڈی کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت میں 24 اگست تک توسیع کر دی۔ میر رضا علی کی لاش گزشتہ ماہ پی ای سی ایچ ایس سے لاپتہ ہونے کے بعد ملی تھی۔
محمد احمد بھارڈی نے اپنے وکیل خالد ممتاز کے ذریعے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (شرقی) کی عدالت میں مبینہ قتل کیس میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے جمعرات کو احمد بھارڈی کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسر اور پراسیکیوشن کو 15 اگست کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔
ہفتے کو بھارڈی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے اور تفتیش میں مکمل تعاون کے باوجود انہیں گرفتاری کا خدشہ ہے۔ وکیل نے بتایا کہ “میرا موکل مقتول کا کاروباری شراکت دار تھا، وہ ایک دکان چلاتا تھا جبکہ رضا دوسری دکان چلاتے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے ان کے موکل کو تفتیش میں شامل کیا ہے۔ وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بھارڈی کو پولیس اسٹیشن کے بجائے جائے وقوعہ پر طلب کیا گیا تھا اور سابقہ تفتیشی افسر کی جانب سے انہیں ہراساں کیا گیا تھا۔
مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے ہراسانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تفتیشی عمل کے دوران بھارڈی کو صرف طلب کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے حصے کے طور پر تقریباً 35 گواہوں اور دیگر افراد کو کئی گھنٹوں تک طلب کر کے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ جب بھارڈی کو ابتدائی طور پر کیس میں ملزم نامزد نہیں کیا گیا تھا تو انہوں نے ضمانت کیوں طلب کی؟





