غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ناکہ بندی کے نتیجے میں صحت کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ علاقے میں موجود 30 آکسیجن اسٹیشنوں میں سے 22 مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں، جس سے ہزاروں مریضوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال طبی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت کو اجاگر کرتی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق، آکسیجن سلنڈر بھرنے کے لیے استعمال ہونے والے 30 آلات میں سے صرف چار ہی کام کر رہے ہیں۔ یہ آلات آکسیجن کی فراہمی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی عدم دستیابی یا خرابی کے باعث اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس سنگین صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ان مریضوں پر پڑ رہا ہے جنہیں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور جنہیں مسلسل آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، جن میں شدید بیمار افراد اور بچے شامل ہیں۔
وزارت صحت نے عالمی برادری سے فوری اپیل کی ہے کہ غزہ میں انسانی امداد اور ضروری سامان کی آمد کے لیے راستے کھولے جائیں۔ وزارت نے زور دیا ہے کہ طبی آلات، ادویات اور ایندھن کی فوری فراہمی کے بغیر غزہ کا صحت کا نظام مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ ناکہ بندی کے خاتمے اور بین الاقوامی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنانا اس انسانی بحران کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔





