متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک کو سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرنے والے شہر کراچی کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ہے لیکن اس کے باوجود اسے حکومتی سطح پر مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث شہر کے بنیادی ڈھانچے اور شہری سہولیات کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔
فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ یہ ملک کی معاشی شہ رگ بھی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ یہ شہر قومی خزانے میں 70 فیصد سے زائد ریونیو کا حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی، بجلی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور امن و امان کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی کی ترقی کے بغیر پاکستان کی معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کراچی کے مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو اس کے منفی اثرات نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کراچی کے شہریوں کو ان کے حقوق دلوانے کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔




