کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک اہم بیان میں سوال اٹھایا ہے کہ اگر نئے صوبوں کی تشکیل کو غداری سمجھا جاتا ہے تو آئین پاکستان میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے۔ انہوں نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان صوبوں کی تشکیل نو کا اختیار دیتا ہے اور اس عمل کو غداری سے تعبیر کرنا آئین کی روح کے منافی ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ بعض حلقے نئے صوبوں کے قیام کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دیتے ہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک اور غیر آئینی رویہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی ضرورت وقت کا تقاضا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ چھوٹے صوبے بہتر حکمرانی اور ترقی کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے مطالبہ کیا کہ جو لوگ نئے صوبوں کی مخالفت کرتے ہیں، وہ آئین کے متعلقہ آرٹیکلز کا مطالعہ کریں اور اپنی پوزیشن واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ ہمیشہ سے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کی حامی رہی ہے اور یہ مطالبہ کسی خاص علاقے کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک میں بہتر حکمرانی کے لیے ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آئین میں موجود شقوں کو نظر انداز کر کے کسی بھی آئینی مطالبے کو غداری قرار دینا ملک کو مزید تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔
