پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں استحکام نہ آ سکا، جس کے نتیجے میں سرکاری اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں میں 300 روپے فی کلو تک کا بڑا فرق برقرار ہے۔ ملک بھر میں صارفین 550 سے 600 روپے فی کلو تک ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، جو کہ حکومت کی مقرر کردہ قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ صورتحال عام آدمی کے لیے شدید مالی مشکلات کا باعث بن رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی عروج پر ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق، ایل پی جی کی قیمتوں میں یہ بے قابو اضافہ حکومتی رٹ کی کمزوری اور ڈیلرز کی جانب سے من مانی قیمتوں پر فروخت کا نتیجہ ہے۔ سردیوں کی آمد اور قدرتی گیس کی قلت کے باعث ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ اندوز اور بلیک مارکیٹرز صارفین کو لوٹ رہے ہیں۔ حکومتی اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے کے سبب یہ فرق روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، اور غریب طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے۔
شہری حلقوں اور صارفین تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرے اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ چھوٹے کاروباری ادارے بھی شدید متاثر ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور ایل پی جی کی سپلائی چین کو بہتر بنا کر قیمتوں میں استحکام لائے تاکہ عوام کو اس اضافی بوجھ سے نجات مل سکے۔


