پاکستان بھر کے بجلی صارفین کو ایک اور بڑے مالی جھٹکے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین پر مجموعی طور پر 32 ارب 66 کروڑ روپے سے زائد کا اضافی بوجھ منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ اضافہ مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کی جانب سے نیپرا کو جمع کرائی گئی درخواستوں کی منظوری کے بعد متوقع ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں یہ مجوزہ اضافہ بنیادی طور پر ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (FCA) اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں کیا جا رہا ہے۔ ڈسکوز نے گزشتہ ماہ کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے لیے نیپرا سے منظوری طلب کی ہے، جبکہ کے الیکٹرک نے بھی اپنے صارفین کے لیے اسی نوعیت کے اضافے کی درخواست جمع کرائی ہے۔ نیپرا ان درخواستوں کا جائزہ لے گا اور عوامی سماعتوں کے بعد حتمی فیصلہ کرے گا، جس کے بعد یہ اضافی چارجز صارفین کے آئندہ بجلی کے بلوں میں شامل کر دیے جائیں گے۔
بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں کمی اور بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے جیسے عوامل ان مسلسل اضافوں کی بنیادی وجوہات ہیں۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں پر دباؤ ہے کہ وہ صارفین پر پڑنے والے اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے پائیدار حل تلاش کریں، تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔


