میڈرڈ: ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل اور اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کے موضوع پر منعقدہ ایک اہم مباحثے کے مقررین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم ناگزیر ہے۔ ماہرین نے کہا کہ جب تک فیصلہ سازی کا عمل عام آدمی کی دہلیز تک نہیں پہنچے گا، حقیقی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ان کا موقف تھا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ کئی دہائیوں پرانا ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
مباحثے میں شریک ماہرین نے نشاندہی کی کہ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل سے نہ صرف حکومتی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ مقامی مسائل کو حل کرنے میں بھی تیزی آئے گی۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے مقامی حکومتیں مضبوط ہوں گی اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز کے دفاتر کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ اقدام عوامی شرکت کو فروغ دے گا اور مقامی سطح پر بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائے گا۔
مقررین نے مزید کہا کہ اختیارات کی تقسیم سے نہ صرف انتظامی بوجھ کم ہوگا بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ممکن ہو سکے گی۔ یہ عمل شفافیت کو فروغ دے گا اور بدعنوانی کے خاتمے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ ان کا اتفاق تھا کہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ملک وہی ہوتا ہے جہاں عوام کو اپنے نمائندوں اور فیصلہ سازوں تک براہ راست رسائی حاصل ہو اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اس لیے، ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل اور اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم ایک ناگزیر اور انقلابی قدم ہے۔
