جمہوریہ کانگو (DR Congo) میں ایبولا کی وبا ملک کی تاریخ کی سب سے مہلک وبا بن گئی ہے۔ صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس مہلک وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اب تک کی تمام سابقہ وباؤں سے تجاوز کر گئی ہے، جس نے عالمی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
یہ وبا پہلے ہی ریکارڈ پر سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا تھی، جس نے صحت کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈالا اور متاثرہ علاقوں میں زندگی کو مفلوج کر دیا۔ اس وبا کی وجہ ایبولا کی ایک نایاب قسم ہے جسے ‘بنڈیبوگیو’ (Bundibugyo) کہا جاتا ہے، جو اس سے قبل بہت کم دیکھی گئی تھی۔
بنڈیبوگیو قسم کی نایابیت اور اس کے تیزی سے پھیلاؤ نے علاج اور کنٹرول کے اقدامات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر امدادی تنظیمیں مقامی حکومت کے ساتھ مل کر اس مہلک وائرس پر قابو پانے اور متاثرین کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔






