امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعے کے خاتمے اور ایک وسیع معاہدے پر اتفاق رائے کے لیے مقررہ ڈیڈلائن گزر چکی ہے، تاہم دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں ہے اور دونوں فریقین سے لچک کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں طے پانے والی جنگ بندی کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کا باعث بنے گی اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازعے کو ختم کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ بندی سے ایک وسیع اور پائیدار امن معاہدے کی راہ ہموار ہوگی جو خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو اپنی انتظامیہ کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا تھا۔
تاہم، تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ڈیڈلائن گزر جانے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور دیگر علاقائی مسائل پر اختلافات برقرار ہیں۔ دونوں فریقین کے موقف میں نمایاں فرق نظر آتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مشترکہ مفادات کی تلاش ہی اس تعطل کو ختم کر سکتی ہے۔






