پاکستان نے اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس (CD) کی صدارت سنبھال لی ہے، جو جنیوا میں عالمی امن و سلامتی کے لیے اہم مذاکرات کا مرکز ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان کے لیے عالمی سطح پر تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلاؤ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ پاکستانی سفارت کار آئندہ چند ہفتوں کے لیے اس اہم کثیرالجہتی فورم کے اجلاسوں کی سربراہی کریں گے، جس کا مقصد عالمی سطح پر ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنا اور تخفیف اسلحہ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔
تخفیف اسلحہ کانفرنس اقوام متحدہ کی واحد کثیرالجہتی تخفیف اسلحہ مذاکراتی فورم ہے جو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرات کو کم کرنے پر مرکوز ہے۔ اس فورم کا بنیادی مقصد جوہری، کیمیائی اور روایتی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے اور ان کی تخفیف کے لیے بین الاقوامی معاہدے تیار کرنا ہے۔ پاکستان، جو خود ایک جوہری طاقت ہے، طویل عرصے سے تخفیف اسلحہ کے عالمی نظام کا ایک فعال حصہ رہا ہے اور اس نے ہمیشہ غیر امتیازی اور متوازن نقطہ نظر کی وکالت کی ہے۔
جنیوا میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے صدارت سنبھالنے کے بعد اپنے خطاب میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تخفیف اسلحہ کے پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور ٹھوس کوششیں کرے۔ پاکستان کی ترجیحات میں جوہری تخفیف، بیرونی خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام، اور روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے عملی اقدامات شامل ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے تخفیف اسلحہ ضروری ہے اور تمام ریاستوں کو سلامتی کے یکساں خدشات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
یہ صدارت پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی ذمہ دارانہ پوزیشن کو اجاگر کرنے اور تخفیف اسلحہ کے میدان میں اپنی پالیسیوں کو پیش کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ اس سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو تقویت ملے گی اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں اس کے کردار کو مزید مستحکم کیا جا سکے گا۔ امید ہے کہ پاکستان کی قیادت میں یہ کانفرنس تخفیف اسلحہ کے تعطل کو توڑنے اور ٹھوس پیشرفت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی، جس سے دنیا بھر میں امن و استحکام کی فضا قائم ہو سکے۔






