سیول: جنوبی کوریا نے امریکہ کے ساتھ اپنی مشترکہ جنگی مشقوں کا دورانیہ کم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ واشنگٹن کی جانب سے کی گئی درخواست بتائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ دونوں اتحادیوں کے درمیان فوجی تعاون کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور خطے میں سفارتی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے “بہت اچھے” تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کو محدود کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ ان مشقوں کو طویل عرصے سے شمالی کوریا کی جانب سے جارحیت کی تیاری سمجھا جاتا رہا ہے اور یہ جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کا ایک بڑا سبب رہی ہیں۔
مشقوں کے دورانیے میں کمی کا یہ اقدام جزیرہ نما کوریا میں سفارتی کوششوں اور کشیدگی میں کمی لانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں میں ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے دفاعی صلاحیتوں پر ممکنہ اثرات پر بھی بحث جاری ہے۔

