فرانس میں ایک ہولناک اسکینڈل سامنے آیا ہے جہاں 200 سے زائد خواتین نے ایک سرکاری اہلکار کرسچن نیگرے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان خواتین کا دعویٰ ہے کہ نیگرے نے انہیں نشہ آور ادویات دے کر بے ہوش کیا اور پھر انہیں خود پر پیشاب کرنے پر مجبور کیا۔ یہ الزامات فرانسیسی معاشرے میں شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایک سرکاری اہلکار کے خلاف ہیں۔
متاثرہ خواتین میں سے دو نے اپنی دل دہلا دینے والی کہانیاں میڈیا کے ساتھ شیئر کی ہیں، جن میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہیں اس شرمناک عمل کا نشانہ بنایا گیا۔ ان خواتین کے بیانات نے اس معاملے کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیگرے نے انہیں ایسے حالات میں نشہ دیا جب وہ بے بس تھیں، اور اس کے بعد انہیں اپنی مرضی کے خلاف پیشاب کرنے پر مجبور کیا گیا۔
مقامی حکام نے ان الزامات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور کرسچن نیگرے کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف متاثرہ خواتین کے لیے ایک صدمہ ہے بلکہ اس نے سرکاری اداروں میں اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیا ہے۔ توقع ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے بعد حقائق سامنے آئیں گے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

