امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی معاہدہ قریب ہے، جس کے بعد کینیڈا پر عائد کیے جانے والے ٹیرف کو فی الحال معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان جاری شدید مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے جس کا مقصد شمالی امریکہ کے تجارتی تعلقات کو از سر نو ترتیب دینا ہے۔
تاہم، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ان مذاکرات کے نتائج کے بارے میں کم واضح موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اہم پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ‘اہم کام’ ابھی باقی ہے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم ٹروڈو کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان کچھ بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے اور علاقائی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کی معطلی کو خیر سگالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم کینیڈا کی جانب سے محتاط ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات میں اب بھی کچھ پیچیدہ نکات حل طلب ہیں۔ عالمی منڈیوں کی نظریں اب اس معاہدے کی حتمی شکل پر مرکوز ہیں جو شمالی امریکہ کے تجارتی مستقبل کا تعین کرے گا۔

