یوکرین کے ایک مصروف شاپنگ سینٹر پر روسی ڈبل ٹیپ ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق، یہ ہلاکت خیز حملہ اس وقت کیا گیا جب شاپنگ سینٹر میں بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔ ڈبل ٹیپ حملے کی نوعیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دوسرا حملہ ممکنہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں یا جائے وقوعہ سے فرار ہونے والے افراد کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
علاقائی سربراہ نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں 23 بچے بھی شامل ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ہر طرف افراتفری پھیل گئی اور امدادی ٹیموں کو ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حملے نے ایک بار پھر شہری علاقوں میں معصوم جانوں کے ضیاع کا باعث بننے والے جنگی جرائم پر تشویش کو بڑھا دیا ہے۔
یوکرین میں جاری جنگ کے دوران شہری تنصیبات اور رہائشی علاقوں پر حملے معمول بن چکے ہیں، جس کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر جنگ کے انسانی پہلو اور بے گناہ شہریوں پر اس کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کیا ہے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس تنازعے کے پرامن حل کے لیے مزید اقدامات کرے۔


